اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

Pages

بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label جدید تحقیقات. Show all posts

ڈپریشن اورکولیسٹرول میں توازن کیلئے نمازبہترین علاج ہے:حکیم خالد

نماز تراویح 'بیسیوں امراض سے تحفظ فراہم کرتی ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور :موجودہ ملکی سیاسی'سماجی و معاشی حالات کے باعث ڈپریشن (یاسیت )کی مرض میں انتہائی اضافہ ہو رہا ہے ۔ ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو ' نمازپنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی انتہائی فائدہ مند ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالدنے ینگ مسلمز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام''نماز پنجگانہ اور تراویح ۔جدید تحقیق و طبی نکتہ نگاہ '' پر مبنی خصوصی لیکچر میں کیاانہوں نے کہا کہ جدید تحقیقات کے مطابق ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو 'نماز پنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی کو دنیا بھر کے محققین نے تسلیم کیا ہے۔امریکن ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک معروف محقق ڈاکٹر ہربرٹ بِنسن نے اپنی ایک تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دوران نماز تراویح قرآنی آیات بار بار سننے اور ذکر الٰہی سے عضلات میں تحریک پیدا ہونے کے علاوہ ذہن برے خیالات سے پاک ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ایک خاص قسم کاری لیکسیشن ریسپونس Relaxation Responseوجود میں آتا ہے جس سے بلند فشارِ خون میں واضح کمی نمودار ہونے کے علاوہ جسم میں آکسیجن کی تقسیم میں بہتری سے 'قلب اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔قاضی خالد نے کہا کہ دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس میں نمازوں اور تراویح میں جسم کی حرکات و سکنات' روحانی ورزش کے طورپر استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ایک مسلمان نمازیں اور تراویح باقاعدہ ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف زندگی کے مشکل ترین کام اور بھی بخوبی انجام دینے کے قابل بن جاتا ہے بلکہ اس سے بیسیوں طبی و روحانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔حکیم خالد نے کہا کہ نماز پنجگانہ اور باقاعدہ تراویح پڑھنے سے اضافی حرارے جلتے ہیں جس سے موٹاپے اور اضافی وزن میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔بند جوڑ کھل جاتے ہیں اورہڈیوںو عضلات میںمضبوطی پیدا ہو جاتی ہے۔میٹابولزم کی رفتار میں سرعت اورگردشِ خون پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔رفتارِ قلب اور کولیسٹرول اعتدال پر رہتا ہے۔یکسوئی اور مکمل دھیان سے مراقبہ کے تمام فوائد حاصل ہوتے ہیںیاداشت میں بہتری آجاتی ہے پریشانی اور افسردگی سے چھٹکاراحاصل ہوتا ہے۔ڈپریشن یاسیت اوربے خوابی سے نجات مل جاتی ہے۔جسمانی اور ذہنی دباؤ دور ہو کرروح کی پاکیزگی اور تازگی حاصل ہوتی ہے نظام تنفس اورقلب پر مثبت اثرات پڑنے سے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ہڈیوں کی بیشتر بیماریوںسے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بعض محققین کے مطابق عبادت کا یہ انداز اینٹی ایجنگ کیفیت رکھتا ہے نیزبڑھاپے میں بھی متحرک اور فعال رہا جا سکتا ہے تمام نمازوں اور تراویح کی ادائیگی سے رضائے پروردگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ طبی فوائد حاصل کر کے ایک بہترین اورصحت مند زندگی گذاری جا سکتی ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لوکاٹ:ایک صحت بخش'مزیدار پھل

تحریر وتحقیق :حکیم قاضی ایم اے خالد

لوکاٹ ترش اور شیریں ذائقہ پر مشتمل موسم گرما کا مزیدار پھل ہے جسے انگلش میں Eriobotrya japonicaکہا جاتا ہے۔لوکاٹ چین سے تعلق رکھتا ہے۔برصغیر پاک و ہند میں یہ پھل انگریزوں کے ساتھ آیا۔جاپان اور بحیرہ روم کے علاقوں میں کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔پاکستان میں بیشتر علاقوں میں لوکاٹ کے باغات ہیںوادی سوات 'کلر کہار'وادی کہون'پوٹھوہار ان میں سے اہم ترین ہیں۔تازہ پھل کے طور پر کھائے جانے کے علاوہ دنیا بھر میں لوکاٹ سے مختلف مشروبات'جام' جیلی اور چٹنیاںsauces وغیرہ بھی تیار کی جاتی ہیں۔جبکہ اس کے پتے اور پھل کئی امراض کیلئے باعث شفا ہیں۔
لوکاٹ میں وٹامن اے'بی٦'وٹامن سی'فولیٹ'میگنیشیم'سیلینیم'سوڈیم'زنک'کاپر'اومیگا٣اوراومیگا٦فیٹی ایسڈزپائے جاتے ہیں۔سوگرام لوکاٹ میں صرف سینتالیس کیلوریز پائی جاتی ہیںاس وجہ سے وزن کم کرنے والے افراد کیلئے لوکاٹ انتہائی خوش ذائقہ تحفہ ہے جو فائبر(ریشہ) سے بھی بھرپور ہے۔شوگر کے مریض اسے بلاجھجھک استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی مٹھاس نقصان دہ نہیں۔ وٹامن اے کی موجودگی اسے بصری قوت اور دانتوں کی صحت کیلئے فائدہ مند بنا دیتی ہے۔پیاس کی شدت اور متلی یا قے میں اس کا تازہ پھل یا شربت استعمال کرنے سے یقینی فائدہ ہوتا ہے۔لوکاٹ مسکن حرارت ہونے کی وجہ سے خون کی حدت کو کم کرتے ہوئے موسم گرما کی بے چینی اور گھبراہٹ دورکرتا ہے۔امراض قلب کے مریضوں میں دل کو فرحت اور سکون بخشتا ہے۔نظام انہضام کیلئے لوکاٹ انتہائی مفید ہے۔غذا کو جلد ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔بواسیر کی مرض میں لوکاٹ بے حد مفید ہے۔لوکاٹ صفراوی اور دموی امراض میں معاون دوا کا کام کرتا ہے۔مصفی خون ہونے کی وجہ سے گرمی دانوں میں موثر ہے۔
ہمارے ہاں لوکاٹ کے پتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتااور اسے ضائع کردیا جاتا ہے جبکہ ان کی برآمد سے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوکاٹ کے پتے فولاد'کاپر'کیلشیم'میگنیشیم اور دیگرمنرلز(معدنیات)کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔لوکاٹ لیف سے تیارشدہ ہربل ٹی'متلی 'قے'ڈائریا'ڈیپریشن اور مختلف قسم کے اورام ختم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔امراض تنفس خصوصاًپھیپھڑوں کی بعض جدید امراض( سی اوپی ڈی'وغیرہ)میں لوکاٹ لیف ایکسٹریکٹ مفید ہے۔لوکاٹ لیف اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی ایجنگ صلاحیت رکھتے ہیں۔جلد اور دیگر اقسام کے کینسر کے بچاؤ میں لوکاٹ کے پتے ایک ڈھال کا کام کرتے ہیں۔لوکاٹ کے پتے انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو طاقتور بناتے ہیں۔
چائینز گورنمنٹ لوکاٹ لیف کو اینٹی شوگرایجنٹ کے طور پر تسلیم کر چکی ہے اور اس سے ہربل ادویات کی تیاری کی منظوری دے چکی ہے۔لوکاٹ لبلبہ کو تقویت فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی جسم میںTormentic acidپیدا کرتا ہے جو انسولین کی پروڈکشن کرکے ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کا باعث بنتا ہے۔اس حوالے سے لوکاٹ کے پتے 7 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچائے بنائیں اس ہربل ٹی کے ساتھ گٹھلی جامن کا 5 گرام سفوف صبح منہ نہار پھانک لیں چند دنوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔نشاستہ دار غذا 'آلو'چاول'چینی وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے۔
لوکاٹ لیف جلد کی سوزش اور ورم میں فائدہ مند ہے جبکہ اس میں اینٹی وائرل خاصیت بھی پائی جاتی ہے۔اس لئے متعدد قسم کی وائرل انفیکشنز میں موثر ہے۔لوکاٹ لیف میں2-alpha-hydoxyursolic acidکی موجودگی اسے ایچ آئی وی ایڈز وائرس کو کمزور کرنے کا باعث بناتی ہے۔علاوہ ازیں جگر کے پچیدہ امراض میں بھی لوکاٹ کے پتے مفیداثرات رکھتے ہیں۔
احتیاط:۔لوکاٹ کی بعض اقسام اور خام حالت میں لوکاٹ ترش ہوتا ہے جو گلے میں خراش اور کھانسی کا باعث بن سکتا ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔
آخر میںشربت لوکاٹ کی ایک ریسپی نذر قارئین ہے۔
شر بت لو کاٹ
اشیائ:
لوکاٹ آدھا کلو( رس نکال لیں)
چینی ایک کلو
پانی ایک بڑا گلاس
ترکیب:
لوکاٹ کا رس پانی سمیت چینی شامل کر کے آگ پرخوب اچھی طرح پکائیں قوام گاڑھا ہو جائے تو اتار کر ٹھنڈا کر لیں اور بوتلوں میں بھر لیں ۔ تین یا چاربڑے چمچ شر بت ایک گلاس پانی میں حل کر کے پئیں۔ یہ نہایت ہی عمدہ اور مفید شر بت ہے۔ دماغ اور دل کو بے حد تقویت دیتا ہے۔ خون کے جوش کو کم کر تا ہے موسم گرما کی بیشتر امراض میں فائدہ مند ہے۔ کھٹی ڈکاریں اور منہ میں پانی آنے کو روکتا ہے متلی قے وغیرہ میں فوری اثر کرتا ہے۔
٭…٭…٭
مصادر و ماخذ:۔
1)آسان گھریلو علاج'مصنف حکیم و ڈاکٹر محمد رشید
2)http://www.crfg.org/pubs/ff/loquat.html
3)http://www.extractfruit.com/all-fruit-extract/647
4)http://www.loquatworld.com/LoquatLeaves.html
5)http://www.loquatworld.com/LoquatRecipes.html
6)http://www.nutrition-and-you.com/loquat-fruit.html
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میتھی: غذا بھی دوا بھی

جدیدطبی تحقیق کے مطابق میتھی ذیابیطس کا بہترین علاج ہے
تخم میتھی کے استعمال سے بال لمبے اور گرنا بند ہو جاتے ہیں

حکیم قاضی ایم اے خالد


 میتھی پاک و ہند کے تقریباََ سبھی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے لیکن قصور کی میتھی زیادہ مشہور ہے اس کے پودے کی اونچائی ایک سے ڈیڑھ فٹ ، پتے کچھ لمبے گول دانہ دار 1/2 سے ایک ڈیڑھ انچ تک لمبے پھول پیلے پھلی دو سے چودہ انچ لمبی ، جسکے اندر پیلے اور سبز رنگ کے بیج ہوتے ہیں جن کو میتھی دانہ کہا جاتا ہے میتھی کا سالن خصوصاََ پاک و ہند کے تقریباََ تمام علاقوں میں بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے مشہور کثیر الا ستعمال سبزی ہے جسکے پتے اور بیج بطور دواء بھی مستعمل ہیں ۔ ہندی ' اُردو 'بنگالی 'گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی ہی کہا جاتا ہے جبکہ عربی میں حلبہ فارسی میں شملیت پشتو میں ملحوزے اور انگلش میں Fenugreek کہا جاتا ہے لا طینی زبان میں اسکا نام  Trigogella Foelum Graceum Linn ہے ۔میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار اور ذائقے دار بنا نے کیلئے استعمال کی جاتی ہے اچار کے مصالحے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یونانی اور آیوویدک دوائوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے اس کا سالن پیشاب لاتا ہے میتھی موسم سرما کے امراض ' کمر درد 'تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے ۔ میتھی کے بیج بادی امراض میںمفید ہیں چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کیلئے اکثر اُبٹنوں میں بھی شامل کیے جاتے ہیں ۔ میتھی کے بیجوں کو پانی میں پیس کر ہفتے میںکم ازکم دوبارکم ازکم ایک گھنٹہ تک سر پر لگا کر دھو نے سے بال لمبے ہو جاتے ہیں اور گرنے بند ہو جاتے ہیں ۔ امراض نسواں میں تخم میتھی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ بچہ دانی کے ورم' درد اور دیگر گائنی کے امراض میں موثر ہے میتھی پیٹ کے چھوٹے کیڑوں(چنونوں) کو مارتی ہے ہاضمہ کو درست کرتی ہے بلغمی مزاج والوں کیلئے بہت مفید ہے سردی سے محفوظ رکھتی ہے دیہاتوں میں بچے کی پیدائش ہونے کے بعدزچہ کو اس کے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں ۔ آنتوں کی کمزوری سے اگر دائمی قبض ہو تو میتھی کا سفوف گڑ ملا کر صبح و شام پانچ گرام پانی کے ساتھ کھانے سے کچھ دنوں تک نہ صرف دائمی قبض دور ہو گی بلکہ جگر کو بھی طاقت ملے گی ۔ میتھی شوگر اور گنٹھیا میں بھی بہت مفید ہے اس کے لئے میتھی کے تازہ پتے 10 گرام پانی میں پیس کر صبح نہا ر منہ استعمال کریں ۔
ذیابطیس (شوگر ) اور میتھی کی کرامات
ذیابطیس کے علاج میں میتھی کو انتہائی موثر پایا گیا ہے راشٹر یہ پوشن انو سندھان حیدر آباد (بھارت )کے ڈاکٹر آرڈی شر ما ور گھورام اور دیگر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی عرصہ دراز سے ذیابطیس (ڈایا بیٹیز )کے علاج کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی تھی انہوں نے ہزاروں مریضوں پر تخم میتھی استعمال کروایا ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابطیس اور دل کے امراض میں مفید ہیں میتھی کے بیج روزانہ 20 گرام درد رے پیس کر کھانے سے صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شکر کی مقدار کم ہو جاتی ہے اگرچہ علامات مرض میںکمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹسٹ کر وا لیا جائے شوگر کے تناسب سے میتھی کے بیج کا استعمال 100 گرام روزانہ تک بھی کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملا کر پکا کے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔ شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال کروانے کا میرا طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو درد را پسو ا لیتا ہوں اور صبح دوپہر شام 20-20 گرام سادہ پانی سے استعمال کرواتا ہوں ۔ شوگر زیادہ ہو تو 30-30 گرام اور اگر کم ہو تو 10-10 گرام بھی صبح دوپہر شام استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ اس کے استعمال کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابطیس میں انتہائی مفید ہے اس دوران چاول ، آلو ، گوبھی ، اروی کیلا اور دیگر میٹھی اشیاء سے پرہیز ضروری ہے صبح کی سیر بھی لازمی ہے اور یاد رہے کہ میتھی کے استعمال کے دوران ایلو پیتھک ادویہ استعمال ہو رہی ہو ں تو کوئی حرج نہیں ۔
مصادر و مآخذ :۔
(1 ہندوستان کی جڑی بوٹیاں جلد چہارم(حکیم ہری چند )
(2 کتاب المفرامات (حکیم مظفر حسین اعوان )
(3کتاب الا دویہ (حکیم کبیر الدین )
(4خزائن الا دویہ جلد ششم (علامہ محمد نجم الغنی )
(5 رپورٹ ذیابطیس کمیٹی راشڑ یہ پوشن انوسدھان حیدر آباد (بھارت)
(6 طبی جرائد و رسائل
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

روزہ ' جسمانی صحت اور جدید طبی تحقیقات


٭تحریر :حکیم قاضی ایم اے خالد٭

٭روزہ متعدد جسمانی و روحانی امراض کا بہترین علاج ہے٭

٭روزہ شوگر لیول' کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے٭ اسٹریس اور ذہنی تناؤ ختم کرتا ہے٭

٭وہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں٭

٭افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیا کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے٭


خالقِ کائنات نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں۔نوری یعنی فرشتے'ناری یعنی جن اور خاکی یعنی انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تخلیق اس طرح ممکن ہوئی کہ جسم کو مٹی سے بنایا گیا اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی۔جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا گیا کہ تمام تر اناج غلہ پھل اور پھول زمین سے اگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا۔ہم سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیاء سے پورا کرتے رہتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی میسر آتا ہے جو رمضان المبارک ہے۔

دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میںبغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیںتاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیںجسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصا ڈاکٹر مائیکل 'ڈاکٹر جوزف 'ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر'ڈاکٹر ایم کلائیو'ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ'ڈاکٹر جیکب 'ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ'ڈاکٹر برام جے 'ڈاکٹر ایمرسن' ڈاکٹرخان یمر ٹ' ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے۔کچھ عرصہ قبل تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ کے طبی فوائد نظام ہضم تک ہی محدود ہیںلیکن جیسے جیسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی'دیگر بدن انسانی پر اس کے فوائد آشکار ہوتے چلے گئے اور محقق اس بات پر متفق ہوئے کہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے۔

آیئے! اب جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں دیکھیں کہ روزہ انسانی جسم پر کس طرح اپنے مفید اثرات مرتب کرتا ہے۔

روزہ اور نظام ہضم :۔

نظام ہضم جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضا پر مشتمل ہوتا ہے اہم اعضا جیسے منہ اور جبڑے میں لعابی غدود، زبان، گلا، مقوی نالی(limentary Canal)یعنی گلے سے معدہ تک خوراک لے جانے والی نالی۔ معدہ، بارہ انگشتی آنت، جگر اور لبلبہ اور آنتوں سے مختلف حصے وغیرہ تمام اعضا اس نظام کا حصہ ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیں یا کھانے کا ارادہ ہی کرتے ہیں یہ نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کردیتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ہمارے موجودہ لائف اسٹائل سے یہ سارا نظام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ ' جنک فوڈزاور طرح طرح کے مضر صحت الم غلم کھانوں کی وجہ سے متاثر ہوجاتا ہے۔ روزہ اس سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کر دیتا ہے اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر نے نظام ہضم میں حصہ لینے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی سرانجام دینے ہوتے ہیں۔ روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے۔ یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے کیونکہ بے حد معمولی مقدار کی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی، اگر معدہ میں داخل ہوجائے تو پورا کا پورا نظام ہضم اپنا کام شروع کردیتا ہے اور جگر فورا مصروف عمل ہوجاتا ہے۔ جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے یا تو ہر لقمے کو سٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے اس کے ہضم ہوکر تحلیل ہوجانے کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے جبکہ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے سٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جگر اپنی توانائی خون میں گلوبلن( Globulin)جو جسم کے محفوظ رکھنے والے مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے' کی پیداوار پر صرف کرتاہے۔

رمضان المبارک میں موٹاپے کے شکار افراد کا نارمل سحری اور افطاری کرنے کی صورت میں آٹھ سے دس پاؤنڈ وزن کم ہوسکتا ہے جبکہ روزہ رکھنے سے اضافی چربی بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ وہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے۔یا د رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔روزے سے معدے کی رطوبتوں میں توازن آتا ہے ۔نظامِ ہضم کی رطوبت خارج کرنے کا عمل دماغ کے ساتھ وابستہ ہے۔عام حالت میں بھوک کے دوران یہ رطوبتیںزیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہیں جس سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔جبکہ روزے کی حالت میں دماغ سے رطوبت خارج کرنے کا پیغام نہیں بھیجا جاتا کیونکہ دماغ میں خلیوں میں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ روزے کے دوران کھانا پینا منع ہے ۔یوں نظامِ ہضم درست کام کرتاہے۔روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقویت دیتا ہے اس کے اثر معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہیں جس سے تیزابیت (Acidity)جمع نہیں ہوتی اس کی پیداوار رک جاتی ہے ۔معدہ کے ریاحی دردوں میں کافی افاقہ ہوتا ہے قبض کی شکایت رفع ہو جاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام انجام دیتا ہے ۔روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ آنتوں کے شرائین کے غلاف کے نیچے محفوظ رکھنے والے نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہے۔ جیسے انتڑیوں کا جال، روزے کے دوران ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ان تمام بیماریوں کے حملوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوسکتے ہیں۔

روزہ اور دوران خون :۔

روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خصوصاًدل کے لئے مفید چکنائی'' ایچ ڈی ایل ''کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اسی طرح دو مزید چکنائیوں ''ایل ڈی ایل''اور ٹرائی گلیسر ائیڈ کی سطحیںبھی معمول پر آ جاتی ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غذائی بے اعتدالیوں پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں روزوں کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالے (میٹا بولزم )کی شرح بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔یاد رہے کہ دوران رمضان چکنائی والی اشیا ء کا کثرت استعمال ان فوائد کو مفقود کر سکتا ہے۔

دن میں روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہوجاتی ہے یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دباؤہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے ۔شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnanuls)کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے نزدیک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزاجم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی (Arteriosclerosis)سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے ۔روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے اور خون کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے اس کے نتیجے میں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون کی کمی دورکر سکتے ہیں۔

روزہ اور نظام اعصاب :۔

روزہ کے دوران بعض لوگوں کو غصے اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا ہے مگر اس بات کو یہاں پر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس قسم کی صورت حال انانیت (egotistic)یا طبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پر سکو ن اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے نیز عبادات کی بجا آواری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کردیتی ہیں اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔روزہ کے دوران چونکہ ہماری جنسی خواہشات علیحدہ ہوجاتی ہیں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔

روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی تحت الشعورجو رمضان کے دوران عبادات کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہو جاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناؤاور الجھن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے ۔

روزہ اور انسانی خلیات :۔

روزے کا سب سے اہم اثر خلیوں کے درمیان اور خلیوں کے اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم پذیر رکھنا ہے۔ چونکہ روزے کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہوجاتے ہیں۔ خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں ایپی تھیلیل (Epithelial)سیل کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے بڑی حد تک آرام اور سکون ملتا ہے جس کی وجہ ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خلیاتیات کے علم کے نکتہ نظر سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود گردن کے غدود تیموسیہ اور لبلبہ (Pencreas)کے غدود شدید بے چینی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزے کی برکت سے کچھ سستانے کا موقع حاصل کرسکیں اور مزید کام کرنے کے لئے اپنی توانائیوں کو جلا دے سکیں۔

روزہ اور غیر مسلموں کے انکشافات :۔

اسلام نے روزہ کو مومن کے لئے شفاقرار دیا اور جب سائنس نے اس پر تحقیق کی تو سائنسی ترقی چونک اٹھی اور اقرار کیا کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے ۔

٭…آکسفورڈیونیورسٹی کے مشہور پروفیسر مورپالڈ اپنا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولہ دیا ہے اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف روزے کا فارمولہ ہی دے دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اورکوئی نعمت نہ ہوتی میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہئے پھر میں نے روزے مسلمانو ں کے طرز پر رکھنا شروع کئے میں عرصہ دراز سے ورم معدہ (Stomach Inflammation)میں مبتلا تھا کچھ دنوں بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقعی ہو گئی ہے میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی کچھ عرصہ بعد ہی میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا اور ایک ماہ بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی ۔

٭…پوپ ایلف گال ہالینڈکے سب سے بڑے پادری گذرے ہیں روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں انہیں کچھ اور طریقہ بتاؤں لیکن میں نے یہ اصول وضع کر لیا ہے کہ ان میں وہ مریض جو لا علاج ہیں ان کو تین روز کے نہیں بلکہ ایک مہینہ تک روزے رکھوائے جائیں ۔میں نے شوگر'دل کے امراض اور معدہ میں مبتلا مریضوں کو مستقل ایک مہینہ تک روزہ رکھوائے ۔شوگرکے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی ا ن کی شوگر کنٹرول ہو گئی ۔دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوگیا سب سے زیادہ افاقہ معدہ کے مریضوں کو ہوا ۔

٭…فارما کولوجی کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جیم نے روزے دار شخص کے معدے کی رطوبت لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا اس میں انہوں نے محسوس کیا کہ وہ غذائی متعفن اجزا(food particles septic)جس سے معدہ تیزی سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہیں ڈاکٹر لوتھر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے ۔

٭…مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤکو قبول کرنے کی صلاحیت پالیتا ہے روزہ دار کو جسمانی کھینچاؤ اور ذہنی تناؤسے سامنا نہیں پڑتا۔

٭…جرمنی'امریکہ 'انگلینڈ کے ماہر ڈاکٹروںکی ایک ٹیم نے رمضان المبارک میں تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رمضان المبارک میں چونکہ مسلمان نماز زیادہ پڑھتے ہیں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہیں اس سے ناک'کان'گلے کے امراض بہت کم ہو جاتے ہیں کھانا کم کھاتے ہیں جس سے معدہ وجگر کے امراض کم ہو جاتے ہیں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لئے وہ اعصاب اور دل کے امراض میں بھی کم مبتلا ہوتا ہے ۔

غرضیکہ روزہ انسانی صحت کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے۔روزہ شوگر لیول 'کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اسٹریس و اعصابی اور ذہنی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے۔روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیںجس سے نہ صرف نفسیاتی و روحانی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلامل کر انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیںروزہ موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید بیسیوں امراض کا علاج بھی ہے ۔

روزہ اور احتیاطی تدابیر:۔

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مندرجہ بالا فوائد تبھی ممکن ہوسکتے ہیں جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیا ء مثلا ًسموسے 'پکوڑے 'کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دستر خوان پر دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے کی بجائے افطار کسی پھل کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیںپڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد سے یقیناًہم روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔٭٭

٭تحریر مصنف کا حوالہ دے کر شایع و نشر کی جا سکتی ہے۔٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>