اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

Pages

بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label مفردات. Show all posts

لوکاٹ:ایک صحت بخش'مزیدار پھل

تحریر وتحقیق :حکیم قاضی ایم اے خالد

لوکاٹ ترش اور شیریں ذائقہ پر مشتمل موسم گرما کا مزیدار پھل ہے جسے انگلش میں Eriobotrya japonicaکہا جاتا ہے۔لوکاٹ چین سے تعلق رکھتا ہے۔برصغیر پاک و ہند میں یہ پھل انگریزوں کے ساتھ آیا۔جاپان اور بحیرہ روم کے علاقوں میں کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔پاکستان میں بیشتر علاقوں میں لوکاٹ کے باغات ہیںوادی سوات 'کلر کہار'وادی کہون'پوٹھوہار ان میں سے اہم ترین ہیں۔تازہ پھل کے طور پر کھائے جانے کے علاوہ دنیا بھر میں لوکاٹ سے مختلف مشروبات'جام' جیلی اور چٹنیاںsauces وغیرہ بھی تیار کی جاتی ہیں۔جبکہ اس کے پتے اور پھل کئی امراض کیلئے باعث شفا ہیں۔
لوکاٹ میں وٹامن اے'بی٦'وٹامن سی'فولیٹ'میگنیشیم'سیلینیم'سوڈیم'زنک'کاپر'اومیگا٣اوراومیگا٦فیٹی ایسڈزپائے جاتے ہیں۔سوگرام لوکاٹ میں صرف سینتالیس کیلوریز پائی جاتی ہیںاس وجہ سے وزن کم کرنے والے افراد کیلئے لوکاٹ انتہائی خوش ذائقہ تحفہ ہے جو فائبر(ریشہ) سے بھی بھرپور ہے۔شوگر کے مریض اسے بلاجھجھک استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی مٹھاس نقصان دہ نہیں۔ وٹامن اے کی موجودگی اسے بصری قوت اور دانتوں کی صحت کیلئے فائدہ مند بنا دیتی ہے۔پیاس کی شدت اور متلی یا قے میں اس کا تازہ پھل یا شربت استعمال کرنے سے یقینی فائدہ ہوتا ہے۔لوکاٹ مسکن حرارت ہونے کی وجہ سے خون کی حدت کو کم کرتے ہوئے موسم گرما کی بے چینی اور گھبراہٹ دورکرتا ہے۔امراض قلب کے مریضوں میں دل کو فرحت اور سکون بخشتا ہے۔نظام انہضام کیلئے لوکاٹ انتہائی مفید ہے۔غذا کو جلد ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔بواسیر کی مرض میں لوکاٹ بے حد مفید ہے۔لوکاٹ صفراوی اور دموی امراض میں معاون دوا کا کام کرتا ہے۔مصفی خون ہونے کی وجہ سے گرمی دانوں میں موثر ہے۔
ہمارے ہاں لوکاٹ کے پتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتااور اسے ضائع کردیا جاتا ہے جبکہ ان کی برآمد سے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوکاٹ کے پتے فولاد'کاپر'کیلشیم'میگنیشیم اور دیگرمنرلز(معدنیات)کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔لوکاٹ لیف سے تیارشدہ ہربل ٹی'متلی 'قے'ڈائریا'ڈیپریشن اور مختلف قسم کے اورام ختم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔امراض تنفس خصوصاًپھیپھڑوں کی بعض جدید امراض( سی اوپی ڈی'وغیرہ)میں لوکاٹ لیف ایکسٹریکٹ مفید ہے۔لوکاٹ لیف اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی ایجنگ صلاحیت رکھتے ہیں۔جلد اور دیگر اقسام کے کینسر کے بچاؤ میں لوکاٹ کے پتے ایک ڈھال کا کام کرتے ہیں۔لوکاٹ کے پتے انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو طاقتور بناتے ہیں۔
چائینز گورنمنٹ لوکاٹ لیف کو اینٹی شوگرایجنٹ کے طور پر تسلیم کر چکی ہے اور اس سے ہربل ادویات کی تیاری کی منظوری دے چکی ہے۔لوکاٹ لبلبہ کو تقویت فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی جسم میںTormentic acidپیدا کرتا ہے جو انسولین کی پروڈکشن کرکے ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کا باعث بنتا ہے۔اس حوالے سے لوکاٹ کے پتے 7 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچائے بنائیں اس ہربل ٹی کے ساتھ گٹھلی جامن کا 5 گرام سفوف صبح منہ نہار پھانک لیں چند دنوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔نشاستہ دار غذا 'آلو'چاول'چینی وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے۔
لوکاٹ لیف جلد کی سوزش اور ورم میں فائدہ مند ہے جبکہ اس میں اینٹی وائرل خاصیت بھی پائی جاتی ہے۔اس لئے متعدد قسم کی وائرل انفیکشنز میں موثر ہے۔لوکاٹ لیف میں2-alpha-hydoxyursolic acidکی موجودگی اسے ایچ آئی وی ایڈز وائرس کو کمزور کرنے کا باعث بناتی ہے۔علاوہ ازیں جگر کے پچیدہ امراض میں بھی لوکاٹ کے پتے مفیداثرات رکھتے ہیں۔
احتیاط:۔لوکاٹ کی بعض اقسام اور خام حالت میں لوکاٹ ترش ہوتا ہے جو گلے میں خراش اور کھانسی کا باعث بن سکتا ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔
آخر میںشربت لوکاٹ کی ایک ریسپی نذر قارئین ہے۔
شر بت لو کاٹ
اشیائ:
لوکاٹ آدھا کلو( رس نکال لیں)
چینی ایک کلو
پانی ایک بڑا گلاس
ترکیب:
لوکاٹ کا رس پانی سمیت چینی شامل کر کے آگ پرخوب اچھی طرح پکائیں قوام گاڑھا ہو جائے تو اتار کر ٹھنڈا کر لیں اور بوتلوں میں بھر لیں ۔ تین یا چاربڑے چمچ شر بت ایک گلاس پانی میں حل کر کے پئیں۔ یہ نہایت ہی عمدہ اور مفید شر بت ہے۔ دماغ اور دل کو بے حد تقویت دیتا ہے۔ خون کے جوش کو کم کر تا ہے موسم گرما کی بیشتر امراض میں فائدہ مند ہے۔ کھٹی ڈکاریں اور منہ میں پانی آنے کو روکتا ہے متلی قے وغیرہ میں فوری اثر کرتا ہے۔
٭…٭…٭
مصادر و ماخذ:۔
1)آسان گھریلو علاج'مصنف حکیم و ڈاکٹر محمد رشید
2)http://www.crfg.org/pubs/ff/loquat.html
3)http://www.extractfruit.com/all-fruit-extract/647
4)http://www.loquatworld.com/LoquatLeaves.html
5)http://www.loquatworld.com/LoquatRecipes.html
6)http://www.nutrition-and-you.com/loquat-fruit.html
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میتھی: غذا بھی دوا بھی

جدیدطبی تحقیق کے مطابق میتھی ذیابیطس کا بہترین علاج ہے
تخم میتھی کے استعمال سے بال لمبے اور گرنا بند ہو جاتے ہیں

حکیم قاضی ایم اے خالد


 میتھی پاک و ہند کے تقریباََ سبھی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے لیکن قصور کی میتھی زیادہ مشہور ہے اس کے پودے کی اونچائی ایک سے ڈیڑھ فٹ ، پتے کچھ لمبے گول دانہ دار 1/2 سے ایک ڈیڑھ انچ تک لمبے پھول پیلے پھلی دو سے چودہ انچ لمبی ، جسکے اندر پیلے اور سبز رنگ کے بیج ہوتے ہیں جن کو میتھی دانہ کہا جاتا ہے میتھی کا سالن خصوصاََ پاک و ہند کے تقریباََ تمام علاقوں میں بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے مشہور کثیر الا ستعمال سبزی ہے جسکے پتے اور بیج بطور دواء بھی مستعمل ہیں ۔ ہندی ' اُردو 'بنگالی 'گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی ہی کہا جاتا ہے جبکہ عربی میں حلبہ فارسی میں شملیت پشتو میں ملحوزے اور انگلش میں Fenugreek کہا جاتا ہے لا طینی زبان میں اسکا نام  Trigogella Foelum Graceum Linn ہے ۔میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار اور ذائقے دار بنا نے کیلئے استعمال کی جاتی ہے اچار کے مصالحے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یونانی اور آیوویدک دوائوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے اس کا سالن پیشاب لاتا ہے میتھی موسم سرما کے امراض ' کمر درد 'تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے ۔ میتھی کے بیج بادی امراض میںمفید ہیں چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کیلئے اکثر اُبٹنوں میں بھی شامل کیے جاتے ہیں ۔ میتھی کے بیجوں کو پانی میں پیس کر ہفتے میںکم ازکم دوبارکم ازکم ایک گھنٹہ تک سر پر لگا کر دھو نے سے بال لمبے ہو جاتے ہیں اور گرنے بند ہو جاتے ہیں ۔ امراض نسواں میں تخم میتھی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ بچہ دانی کے ورم' درد اور دیگر گائنی کے امراض میں موثر ہے میتھی پیٹ کے چھوٹے کیڑوں(چنونوں) کو مارتی ہے ہاضمہ کو درست کرتی ہے بلغمی مزاج والوں کیلئے بہت مفید ہے سردی سے محفوظ رکھتی ہے دیہاتوں میں بچے کی پیدائش ہونے کے بعدزچہ کو اس کے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں ۔ آنتوں کی کمزوری سے اگر دائمی قبض ہو تو میتھی کا سفوف گڑ ملا کر صبح و شام پانچ گرام پانی کے ساتھ کھانے سے کچھ دنوں تک نہ صرف دائمی قبض دور ہو گی بلکہ جگر کو بھی طاقت ملے گی ۔ میتھی شوگر اور گنٹھیا میں بھی بہت مفید ہے اس کے لئے میتھی کے تازہ پتے 10 گرام پانی میں پیس کر صبح نہا ر منہ استعمال کریں ۔
ذیابطیس (شوگر ) اور میتھی کی کرامات
ذیابطیس کے علاج میں میتھی کو انتہائی موثر پایا گیا ہے راشٹر یہ پوشن انو سندھان حیدر آباد (بھارت )کے ڈاکٹر آرڈی شر ما ور گھورام اور دیگر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی عرصہ دراز سے ذیابطیس (ڈایا بیٹیز )کے علاج کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی تھی انہوں نے ہزاروں مریضوں پر تخم میتھی استعمال کروایا ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابطیس اور دل کے امراض میں مفید ہیں میتھی کے بیج روزانہ 20 گرام درد رے پیس کر کھانے سے صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شکر کی مقدار کم ہو جاتی ہے اگرچہ علامات مرض میںکمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹسٹ کر وا لیا جائے شوگر کے تناسب سے میتھی کے بیج کا استعمال 100 گرام روزانہ تک بھی کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملا کر پکا کے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔ شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال کروانے کا میرا طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو درد را پسو ا لیتا ہوں اور صبح دوپہر شام 20-20 گرام سادہ پانی سے استعمال کرواتا ہوں ۔ شوگر زیادہ ہو تو 30-30 گرام اور اگر کم ہو تو 10-10 گرام بھی صبح دوپہر شام استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ اس کے استعمال کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابطیس میں انتہائی مفید ہے اس دوران چاول ، آلو ، گوبھی ، اروی کیلا اور دیگر میٹھی اشیاء سے پرہیز ضروری ہے صبح کی سیر بھی لازمی ہے اور یاد رہے کہ میتھی کے استعمال کے دوران ایلو پیتھک ادویہ استعمال ہو رہی ہو ں تو کوئی حرج نہیں ۔
مصادر و مآخذ :۔
(1 ہندوستان کی جڑی بوٹیاں جلد چہارم(حکیم ہری چند )
(2 کتاب المفرامات (حکیم مظفر حسین اعوان )
(3کتاب الا دویہ (حکیم کبیر الدین )
(4خزائن الا دویہ جلد ششم (علامہ محمد نجم الغنی )
(5 رپورٹ ذیابطیس کمیٹی راشڑ یہ پوشن انوسدھان حیدر آباد (بھارت)
(6 طبی جرائد و رسائل
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آم :گرمیوں کا سب سے مقبول پھل

جدید تحقیقات کے مطابق آم بریسٹ اور کولون کینسر میں موثر ثابت ہواہے

 آم کے اندر پایا جانے والا کیمیکل عنصر پولی فینول کئی قسم کے کینسر اور ٹیومرمیں فائدہ مند ہے

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم گرمیوں کا سب سے مقبول پھل ہے اور دنیا بھر میں دوسرے پھلوں سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔ آم میں نشاستہ پایا جاتا ہے اور روغنی اجزابھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔آم میں حیاتین اے 'سی' فاسفورس' کیلشیم'فولاد اور پوٹاشیم کے علاوہ گلوکوز بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ آم غذائیت بخش پھل ہے۔ یہ جسمانی کمزوری کو ختم کرتا ہے خون پیدا کرتا ہے اور جسم کو فربہ کرتا ہے۔ آم میں کیلشیم کی موجودگی ہڈیوں کیلئے مفید ہے۔ آم جگر'دل' دماغ'ہڈیوں اور پٹھوں کو سخت گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ آم بچوں کو خصوصی طور پر کھلانا چاہئے۔ آم کھانسی اور دمہ کے مریضوں کیلئے بھی بہترین ہے یہ حافظے کو تقویت دیتا ہے اس لئے دماغی کمزوری والے لوگوں کوآم کا استعمال خاص طور پرکرنا چاہئے۔ آم کی مسواک دانتوں کی صفائی کیلئے مفید ہے۔آم میں موجود قدرتی اجزا دل کے امراض' کینسر اور جلدی بیماریوں سے حفاظت کا نہایت موثر ذریعہ ہیں۔ اس میں موجود فولاد جلد کی تروتازگی اور دلکشی میں اضافے کا باعث بنتا ہے جبکہ پوٹاشیم کی بڑی تعداد بلڈ پریشر کنٹرول کرتی ہے۔ گردے کی پتھری سے حفاظت کے لئے بھی آم کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔
حالیہ جدید تحقیقات کے مطابق آم بریسٹ اور کولون کے سرطان سے محفوظ رکھنے کیلئے ایک اہم دوا ثابت ہوا ہے۔ آم کھانے کے شوقین لوگوں میں اس سرطان کی شرح نمایاں طور پر کم دیکھی گئی ہے۔ دنیائے طب میں آم اور صحت کے درمیان تعلق پر ہونے والی پہلی طبی تحقیق کرنے والی برلن کی معروف ڈاکٹر سواسانی ٹیل کوٹ اور ان کے شوہر ڈاکٹر سیٹوٹیل کوٹ نے آم کے گودے'جوس'چھلکے'گٹھلی کو کینسر کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرتے ہوئے نوٹ کیا۔ انہوں نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آم کھانے والے افراد کے خون میں زہریلے مادوں کی شرح صرف 10فیصد تک تھی جبکہ دیگرآم نہ کھانے والے لوگوں کے جسموں میں شرح 35سے 40فیصد تک نوٹ کی گئی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو آم سپر فوڈ کہلا سکتا ہے۔ تحقیق کے دوران جسم سے زہریلے مادے اور کینسر کے سیل ختم کرنے کیلئے بلیوبیری' آم' پائن ایپل سمیت دیگر پھلوں پر تجربات کئے گئے جن میں سب سے زیادہ آم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق انگوروں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ سب سے بہتر خون صاف کرنے والا فروٹ ہے اور یہ ہے بھی درست مگر آم نے اس پر بھی سبقت حاصل کرلی ہے۔ ماہرین طب نے اس تحقیق سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آم کو روزمرہ خوراک بنانے کیلئے زرعی سطح پر نئے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آم کے اندر پائے جانے والے کیمیکل عنصر پولی فینول سے کولون' بریسٹ' پھیپھڑوں اور ہڈیوں کے گودے کے سرطان اور پروسٹیٹ کینسر کے ٹیومرز کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ عنصر عام طور پر پودوں میں پایا جاتا ہے مگر سب سے بہتر اور اعلی کوالٹی کا حاصل یہ عنصر آم میں ہی ملتا ہے۔
کچے آم (کیری )بھی صحت کیلئے بہت مفید ہیں ۔ کچے آم میں وٹا من بی ون اور بی ٹو پکے ہوئے آم کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ نیا سین کی قابل ذکر مقدار بھی اس میں پائی جاتی ہے ۔ شد ید گرمی اور لوکے تھپیڑوں سے بچنے کیلئے کچے آم کو آگ میں بھون کر اس کا نرم گوداشکر اورپانی میں ملا کر شربت کے طور پر استعمال کرنے سے گرمی کے اثرات کم ہو جاتے ہیں کیری پر نمک لگا کر کھانے سے پیاس کی شدت کم ہو جاتی ہے جبکہ پسینے کی وجہ سے جسم میں ہونیوالی نمک کی کمی بھی پوری ہو جاتی ہے کیری میں موجود وٹامن سی خون کی نالیوں کو زیادہ لچکدار بناتی ہے خون کے خلیات کی تشکیل میں بھی مدد گار ہوتی ہے غذا میں موجود آئرن کو جسم میں جذب کرنے میں بھی یہ وٹامن معاونت کرتی ہے اور جریان خون روکتی ہے کچے آم میں تپ دق' انیمیا اور پیچش سے بچا ؤکیلئے جسم کی مزاحمتی صلاحیت کو طاقتور بنانے کی قوت بھی پائی جاتی ہے کیری میں جو ترش تیزابی مادے ہوتے ہیں وہ صفرا کے اخراج کو بڑھا دیتے ہیں اور آنتوں کے زخموں کو مندمل کرنے میں اینٹی سیپٹک کے طور پر کام کرتے ہیں کھٹے کچے آم جگر کو صحت مند بناتے ہیں طبیب حضرات صفرادی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے کیری کی قاشوں کو شہد اور کالی مرچ کے ساتھ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں کچے آموں کو آنکھوں کی مرض اتوندیاشب کوری( جس میں رات کے وقت دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے) میں بھی مفید پایا گیا ہے
آم کے پتے' چھال'گوند'پھل اور تخم سب دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ آم کے پرانے اچار کا تیل گنج کے مقام پر لگانے سے بالچر کو فائدہ ہوگا۔ آم کے درخت کی پتلی ڈالی کی لکڑی سے روزانہ مسواک کرنے سے منہ کی بدبو جاتی رہے گی۔ خشک آم کے بور کا سفوف روزانہ نہار منہ چینی کے ساتھ استعمال کرنا مرض جریان میں مفید ہے۔جن لوگوں کو پیشاب رکنے کی شکایت ہو' آم کی جڑ کا چھلکا برگ شیشم دس دس گرام ایک کلو پانی میں جوش دیںجب پانی تیسرا حصہ رہ جائے تو ٹھنڈا کرکے چینی ملا کر پی لیںپیشاب کھل کر آئے گا۔ ذیابیطس کے مرض میں آم کے پتے جو خود بخود جھڑ کرگر جائیں'سائے میں خشک کرکے سفوف بنا لیں۔ صبح و شام دو دو گرام پانی سے استعمال کرنے سے چند دنوں میں فائدہ ہوتا ہے۔ نکسیر کی صورت میں آم کے پھولوں کو سائے میں خشک کرکے سفوف بنا لیں اور بطور نسوار ناک میں لینے سے خون بند ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کے بال سفید ہوں' آم کے پتے اور شاخیں خشک کرکے سفوف بنا لیں۔ روزانہ تین گرام یہ سفوف استعمال کیا کریں۔ کھانسی' دمہ اور سینے کے امراض میں مبتلا لوگ آم کے نرم تازہ پتوں کا جوشاندہ' ارنڈ کے درخت کی چھال سیاہ زیرے کے سفوف کے ساتھ استعمال کریں۔ آم کی چھال قابض ہوتی ہے اور اندرونی جھلیوں پر نمایاں اثر کرتی ہے اس لیے سیلان الرحم(لیکوریا) آنتوں اور رحم کی تکالیف 'پیچش و خونی بواسیر کیلئے بہترین دوا خیال کی جاتی ہے۔ ان امراض میں آم کے درخت کی چھال کا سفوف یا تازہ چھال کا رس نکال کر دیا جاتا ہے۔ آم کی گٹھلی کی گری قابض ہوتی ہے۔ چونکہ اس میں بکثرت گیلک ایسڈ ہوتا ہے اس لئے کثرت حیض' پرانی پیچش' اسہال' بوا سیر اور لیکوریا میں مفید ہے۔
٭…٭…٭

آم کی مختلف اقسام



یوں تو آم کی بے شمار اقسام سامنے آچکی ہیں مگر پاکستان میں بکثرت پیدا ہونے والی اقسام درج ذیل ہیں۔
دسہری
اس کی شکل لمبوتری'چھلکا خوبانی کی رنگت جیسا باریک اور گودے کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے۔ گودا گہرا زرد'نرم'ذائقے دار اور شیریں ہوتا ہے۔
چونسا
یہ آم قدرے لمبا'چھلکا درمیانی موٹائی والا ملائم اور رنگت پیلی ہوتی ہے۔ اس کا گودا گہرا زرد'نہایت خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے۔ اس کی گٹھلی پتلی لمبوتری'سائز بڑا اور ریشہ کم ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا ملیح آباد (بھارت)کے قریبی قصبہ چونسا سے ہوئی۔
انور رٹول
اس کی شکل بیضہ نما ہوتی ہے اور سائز درمیانہ ہوتا ہے۔ چھلکا درمیانہ' چکنا اور سبزی مائل زرد ہوتا ہے۔ گودا بے ریشہ'ٹھوس' سرخی مائل زرد' نہایت شیریں' خوشبودار اور رس درمیانہ ہوتا ہے۔ اس کی گٹھلی درمیانی'بیضوی اور نرم'ریشے سے ڈھکی ہوتی ہے۔ اس قسم کی ابتدا میرٹھ (بھارت)کے قریب قصبہ رٹول سے ہوئی۔
لنگڑا
یہ آم بیضوی لمبوترا ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا چکنا بے حد پتلا اور نفیس گودے کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے۔ گودا سرخی مائل زرد'ملائم' شیریں'رس دار ہوتا ہے۔
 الماس
اس کی شکل گول بیضوی ہوتی ہے اور سائز درمیانہ'چھلکا زردی مائل سرخ'گودا خوبانی کے رنگ جیسا ملائم' شیریں اور ریشہ برائے نام ہوتا ہے۔
فجری
یہ آم بیضوی لمبوترا ہوتا ہے۔ فجری کا چھلکا زردی مائل سطح برائے نام کھردری 'چھلکا موٹا اور نفیس' گودے کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ گودا زردی مائل سرخ' خوش ذائقہ'رس دار اور ریشہ برائے نام ہوتا ہے۔ اس کی گٹھلی لمبوتری موٹی اور ریشے دار ہوتی ہے۔
سندھڑی
آم بیضوی اور لمبوترا ہوتا ہے۔ اس کا سائز بڑا'چھلکا زرد' چکنا باریک گودے کیساتھ چمٹا ہوتا ہے۔ گودا شریں' رس دار اور گٹھلی لمبی اور موٹی ہوتی ہے۔ اصلاًمدراس کا آم ہے۔
گولا
یہ شکل میں گول ہوتا ہے۔ سائز درمیانہ'چھلکا گہرا نارنجی اور پتلا ہوتا ہے۔ گودا پیلا ہلکا ریشے دار اور رسیلا ہوتا ہے۔ گٹھلی بڑی ہوتی ہے۔
مالدا
یہ آم سائز میں بہت بڑا ہوتا ہے مگر گٹھلی انتہائی چھوٹی ہوتی ہے۔ چھلکا پیلا اور پتلا ہوتا ہے۔
نیلم
اس آم کا سائز درمیانہ اور چھلکا درمیانہ، موٹا اور پیلے رنگ کا چمکتا ہوا ہوتا ہے۔
 سہارنی
سائز درمیانہ اور ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔
فضل دین یا فضلی
یہ بہت بڑے بڑے سائز کاآم ہوتا ڈیڑھ سے دوکلو تک کے وزن کا بھی دیکھا گیا ہے۔بیرونی چھلکا سبز رنگ کا اور اندرونی گودا پیلا 'شیریں ہوتا ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کھیوڑہ کانمک: انسانی صحت کیلئے وائٹ گولڈ

اعتدال سے نمک کا استعمال بیشتر امراض میں موثر ہے

 نمک کی زیادتی' ہائی بلڈ پریشر'امراض قلب اور فالج وغیرہ کا باعث بنتی ہے

 حکیم قاضی ایم اے خالد


 اعتدال سے نمک کا استعمال بیشتر امراض سے بچاؤ میں موثر ہے تاہم نمک کی زیادتی سے ہائی بلڈ پریشر'امراض قلب اور فالج وغیرہ وقوع پذیر ہو سکتے ہیں ۔کسی بھی قسم کے فلو میں نمکین پانی ناک میں ڈالنے سے فائدہ کرتاہے ۔گلے کی سوزش میں نمکین پانی کے غرارے مفید تدبیر ہے ۔لو بلڈ پریشر میںنمک فوری اثر کرتا ہے ۔گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے پاکستان کاچٹانی نمک انتہائی مفید ہے۔ نمک متعدد زہروں کا تریاق ہے۔سلور نائٹریٹ کو غیر محلول کلورائیڈ میں تبدیل کرکے اسے غیر موثر کر دیتا ہے۔طبیب اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نمک کا محلول بچھو کاٹنے پر استعمال فرمایا۔نمک نظام ہضم سے متعلق بیشتر امراض میں فائدہ مند ہے لیکن اس کی روزانہ مقدار خوراک ایک سے تین گرام ہے اس سے زیادہ مقدار امراض کا باعث بن سکتی ہے ۔جدید تحقیقات کے مطابق نمک دمہ' ملیریا'ٹائیفائڈ'جوڑوں کے درداور کئی جلدی امراض میں فائدہ مند پایا گیا ہے کھیوڑہ کا نمک انسانی صحت کیلئے وائٹ گولڈ کی حیثیت رکھتا ہے حال ہی میں بھارت کی الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میںایک ریسرچ سرانجام دی گئی ہے تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور بھارت کے اپہل اسپتال واراناسی میں تعینات ممتاز ماہرِ گردہ ڈاکٹر پردیپ کمار رائے کی اس ریسرچ کے مطابق چٹانی نمک میں سوڈیم اور پوٹاشیم کا ارتکاز 38سے پانچ فی صد کے تناسب سے ہے جو کہ کسی بھی دستیاب نمک کے مقابلے میں گردے کے مریضوں کی ضروریات سے بہتر مطابقت رکھتا ہے ۔دیگر ذرائع سے تیارشدہ نمک میں سوڈیم یا پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے ضمنی اثرات بلند فشار خون اور امراضِ قلب کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن پاکستانی چٹانی نمک میں ان عناصر کی مقدار بہترین انداز سے متوازن ہوتی ہے۔یہ تحقیقی رپورٹ ''اسپرنگر''لندن میں شائع ہوئی ہے۔یاد رہے کہ ایشیا میں چٹانی نمک کے بڑے ذخائر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دارالحکومت اسلام آباد سے 200کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع کھیوڑہ نمک کی کانوں میں ہیں۔ وہاں نمک کے ذخائر کا تخمینہ 22کروڑ ٹن لگایا گیا ہے۔ یہ دنیا میں نمک کی دوسری بڑی کان ہے۔ پولینڈ میں وائلیکز کی کان سب سے بڑی ہے۔ایک وفاقی ادارے پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن (پی ایم ڈی سی)کے زیرِ انتظام ہر برس کھیوڑہ کی کان سے 325,000ٹن نمک نکالا جاتا ہے۔ماہرینِ ارضیات کے تخمینے کے مطابق کھیوڑہ میں پائے جانے والے چٹانی نمک کی عمر تقریبا 60کروڑ برس ہے۔حال ہی میں حکومت نے کان کو ایک سیاحتی مقام کی حیثیت سے ترقی دینا شروع کی جس کے لئے زمین کی سطح پر واقع مرکزی سرنگ کو ایک ریستوران کی شکل دی گئی ہے۔ ہر برس ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح کھیوڑہ کی کانوں کی سیر کرنے آتے ہیں۔اس کے اندر اہم دلچسپیوں میں تالاب اور ایک مسجد شامل ہیں جہاں مختلف رنگوں کے چٹانی نمک کی اینٹوں سے کھوکھلی دیواریں بنائی گئی ہیں جو کہ روشنی میں بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہیں۔دمہ کے مریضوں کے لئے کان کے اندر ایک اسپتال قائم کرنے کا منصوبہ پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کے زیر غورہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مسٹر آلو ۔۔۔۔۔

کچن ریمیڈیز KITCHEN REMEDIES

مسٹرآلو۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
پندرہویں صدی کے آخر میں جنوبی امریکہ کے مانٹ اینڈیز میںہسپانویوں نے آلو دریافت کیا۔ایک زمانہ تھا کہ آلو کی کاشت کبھی جنوبی امریکہ کے چند علاقوں تک محدود تھی۔ آلو پہلے پہل یورپ پہنچا جہاں سے وہ برصغیر پاک و ہندسے ہوتا ہوا چین پہنچا۔ آج آلودنیا بھرکی ہردلعزیز سبزی ہے لیکن پوری دنیا میں یہ سارا سال نہیں ملتی۔پاک وہند کی یہ خوش قسمتی ہے کہ نہ صرف یہاںآلوکی بہترین فصل ہوتی ہے بلکہ یہ سارا سال دستیاب رہتا ہے اورپاک و ہند کے باسیوں کی پسندیدہ غذا ہے ۔آلو سرد خشک تاثیر کا حامل ہوتا ہے ۔ آلو میں فولاد ' کیلشئیم' پوٹاشیئم اور فاسفورس کی خاصی مقدار ہوتی ہے ۔جو جسمانی نشونما کے لیئے بہت مفید ہے ۔ اس کے علاوہ آلو میں میگنیشیئم' سوڈیم ' گندھک 'کلورین اور آیوڈین بھی ہوتی ہے یہ اجزا بھی انسانی صحت کے لئے اہم ہیں ۔ آلو میں وٹامن اے' بی' سی'ڈی'ای'ایچ 'پی اور29فیصد کاربو ہائیڈریٹس اور 8.5فیصدپروٹین کی مقدار بھی پائی جاتی ہے۔آلو کی کئی اقسام ہیں لیکن سرخ گولااور سفید گولڈن بہترین قسمیں ہیں۔ آلو کو زیادہ پکانے سے اس کے وٹامنز ضائع ہو جاتے ہیں۔فوائد کے حوالے سے آلو کو ابال کر کھانازیادہ مفید ہے ۔
آلو کے فائدے:۔
٭…ابلے آلو بچوں کی نشوونماکے لئے مفید ہیں۔
٭…ماہر غذائیت یا معالج کی مشاورت سے کیلے اورابلے آلوکا استعمال بچوں کے لاغرپن اور کمزوری کا بہترین علاج ہے۔
٭…آلو میں پائے جانے والے میگنیشیم کی وجہ سے ابلا ہوا آلو بغیر نمک کے کھانے سے ہائی بلڈ پریشرکم ہو جاتا ہے۔
٭…ایک یا دونوں گردوں میںپتھری ہونے پر آلو کھانے اور آلو کا پانی پیتے رہنے سے پتھری ریزہ ریزہ ہوکر پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتی ہے۔تمام دن پانی کا زیادہ استعمال بھی ضروری ہے ۔آلو میں موجود میگنیشیم پتھری کو توڑتا ہے اور نئی پتھری نہیں بننے دیتا۔
٭…گردوں کے درد اور پتھری کیلئے بھنے ہوئے آلو اور مولی ہم وزن لے کر ان میں سونف' نمک اور کالی مرچ ملا کر استعمال کرنا مفید ہے۔
٭…آلوچونکہ الکلی ہے لہذا اسے باقاعدہ (بوائل) کھانے سے تیزابیت کم ہو جاتی ہے۔
٭…کچے آلو کا رس پینا Heart Burnمیں مفید ہے۔
٭…جوڑوں کے درد کے لئے بھنے ہوئے 120گرام آلو 30گرام ٹماٹر اور تھوڑی سی ادرک لے کریکجا کرکے روزانہ کھائیں ۔(نقرس اور گنٹھیاکے باعث ہونے والے جوڑوں کے درد میںآلو مفید نہیں لہذاایسے مریض آلو نہ کھائیں۔)
٭…ایگزیما میں آلوکا رس لگانا فائدہ مند ہے۔
٭…جلی ہوئی جلد پر اگر فوری طورپر آلوکاٹ کرملا جائے تو جلد نہ صرف محفوظ رہتی ہے بلکہ نشان بھی مٹ جاتاہے۔
آلو اورڈارک سرکل یعنی سیاہ حلقے دور کرنے کے نسخے:۔
[IMG]
٭…آلو کو پیس کر پتلے کپڑے میں رکھ کر پوٹلی بنالیں' اسے آنکھوں کے نیچے ہلکے ہاتھوں سے ملیں۔ آلو میں پائے جانیوالے اینزائم سیاہ حلقوں کو دور کرتے ہیں یہ نسخہ باقاعدگی سے کم ازکم ایک سے دو ہفتہ استعمال کرنا ضروری ہے۔
٭…ایک چمچ کھیرے کا رس' چار بوند شہد'چار بوند آلو کا رس'چار بوند بادام کا تیل ان سب کو اچھی طرح ملالیںاور روئی سے آنکھوں کے سیاہ حلقوں پر لگائیںیہ نسخہ ڈارک سرکل دورکرنے کے لئے انتہائی فائدہ مندہے۔ کھیرا' شہد' آلو'اور بادام میں پائے جانے والے اجزا ڈارک سرکل کو دور کرتے ہیں۔
٭…آنکھوں کے گرد موجود سوجن کو آلو کی قاشوں کے بیرونی استعمال سے ختم کیاجاسکتاہے ۔
٭…آلو کا رس اینٹی ایجنگ صلاحیتیں بھی رکھتا ہے۔اس کے مسلسل استعمال سے ہاتھ 'پاؤں'جسم اور چہرے کی جھریاں غائب ہو جاتی ہیں
احتیاطیں:۔
٭…اعتدال سے کسی بھی غذا کا استعمال کیا جائے تو غذائیت کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جبکہ بے اعتدالی سے نقصانات کا احتمال ہوتا ہے۔
٭…آلو دیر سے ہضم ہوتا ہے لہذا کمزور معدے والے آلو کم استعمال کریں۔
٭…آلو ریح پیدا کرتا ہے'بادی ہے اور بلغمی رطوبات کو زیادہ کرتا ہے۔ گرم مصالحوںکے ساتھ اس کا استعمال زیادہ محفوظ ہے۔
[IMG]
٭…ذیابیطس(شوگر)کے مریضوںکو آلواور اس کی مصنوعات خصوصاًچپس'فنگرچپس وغیرہ کھانے میںخصوصی احتیاط برتنی چاہئے۔
٭…تازہ ترین تحقیقات کے مطابق طبی ماہرین نے آلو اور آلو کے چپس کے زیادہ استعمال کو سخت خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آلوزیادہ کھانے سے ذیابیطس کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ خواتین کو آلو کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ زیادہ نوٹ کیا گیا ہے جبکہ مردوں میں نسبتاً کم ہاورڈ یونیورسٹی امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آلو صحت مند غذا ہے مگر اس کے بہت زیادہ استعمال سے معدے اور جگر کے افعال میں گڑ بڑ ہو جاتی ہے جس سے ذیابیطس کے مرض کو پھیلنے کیلئے راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ آلو میں موجود گلوکوز لبلبے کے افعال کومتاثر کرنے لگتی ہے جس سے ذیابیطس کا مرض ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق میں 85ہزار آلو کے شائقین مردوں اور خواتین کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ طبی ماہرین نے آلو کے چپس کو سب سے زیادہ خطر ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چپس کی شکل میں اس کے خطرات 65فیصد تک چلے جاتے ہیں۔٭٭
مطبوعہ۔۔۔ ۔۔ہفت روزہ فیملی ۳تا۹جون۔۲۰۱۲صفحہ نمبر۵۲
[IMG]
مکمل تحریر اور تبصرے >>>