اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

Pages

بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label معالجات. Show all posts

طب یونانی میں ہیپاٹائٹس کا موثر علاج موجود ہے

بیوٹی پارلرز اور حجام ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی اہم وجہ ہیں

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

پاکستان میں1کروڑ 50لاکھ افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں۔آلودہ پانی اور ناقص خوراک ہیپا ٹائٹس اے اور ای کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہے ۔جبکہ ہیپاٹائٹس بی 'سی اور ڈی استعمال شدہ سرنجز 'خون کی منتقلی اور دیگر وجوہات سے پیدا ہوتا ہے خواتین میں ہیپاٹائٹس کی بڑی وجوہ میں بیوٹی پارلر کا کردار اہمیت کا حامل ہے جبکہ مردوں میں غیرمعیاری ہئیرڈریسر یاحجام ہیپاٹائٹس پھیلانے کی اہم وجہ ہیں۔ ہیپاٹائٹس کی بیماری خون یا اس کی مصنوعات کے تبادلے'استعمال شدہ سرنج یا منشیات میںمشترکہ انجیکشن'شیونگ بلیڈ'ناک یا کان چھیدنے والے آلودہ اوزار'بیوٹی و ڈینٹل اور دیگرسرجری آلات کا سٹریلائزڈ کئے بغیر استعمال' آلودہ پانی اور کھانے پینے کی بازاری اشیا ء سے پھیلتی ہے ۔ہیپاٹائٹس پاکستان میں سنگین صورت حال اختیار کرچکاہے۔حکومتی اداروںو افراد کی طرف سے سال میں ایک مرتبہ صرف ہیپاٹائٹس ڈے پر فائیو سٹارز ہوٹلز میں سیمینارز کے انعقاد کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت روزانہ کی بنیادوں پر حکمت عملی وضع کرتے ہوئے ٹاسک فورس قائم کرے اور تمام مروج طریق علاج خصوصاًطب یونانی سے بھی استفادہ کیا جائے اس سلسلے میں بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے جو مقامی طریق علاج سے ہیپاٹائٹس پر قابو پا چکا ہے۔ بھارت میںسینٹرل کونسل فار ریسرچ آیورویدک اینڈسدھا(36)یونٹس'سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن(25)یونٹس اور دیگر حکومتی ادارے قائم ہیں جہاں ہیپاٹائٹس'ایڈز'برص(پھلبہری)سمیت بیسیوں پچیدہ اورایلوپیتھک طریقہ علاج کے مطابق ناقابل علاج امراض کا کامیاب یونانی علاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اس امر کا فقدان ہے دیگر تمام شعبوںاور اداروں کی تعمیر میں کوتا ہیوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنی قوم کے مسئلہ صحت کے حل کیلئے بھی اغیار کے محتاج ہیں۔ایلوپیتھک ادویات اورتمام اقسام کی ویکسینیشن پاکستان میں تیارہونے کی بجائے قیمتی زرمبادلہ کے عوض باہر سے آرہی ہیں۔لیور ٹرانس پلانٹ کیلئے بھی پاکستانی بھارت اور دیگر ممالک جاتے ہیں جبکہ وطن عزیز میں اس کا سرکاری اہتمام ندارد ہے۔پاکستانی صحت کے اداروں کیلئے کسقدر شرم کا مقام ہے کہ دنیا میں پاکستان کو'' ورلڈ کیپٹل آف ہیپاٹائٹس'' کہا جارہا ہے۔ ہیپاٹائٹس کا طب یونانی (اسلامی) میں شافی علاج موجود ہے پاکستان میں غالب طریقہ علاج کے ماہرین امراض جگر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ہیپاٹائٹس کی میڈیکیشن کے لئے'' الفاانٹرفیرون'' ہے۔ یہ طویل المعیاد تعدیے انفیکشن کے علاج کے طور پر دی جانے والی دوا ہے جو جسم میں قدرتی طور پر پیداھونے والی انٹرفیرون کی ایک مصنوعی شکل ہے جو جسم میں چھوت سے دفاع کے لئے پیدا ھوتی ہے۔ اس کے علاوہ پیگ انٹرفیرون بھی موجود ہے لیکن یہ انٹرفیرون سے زیادہ قیمتی ہے۔پاکستان میںہیپاٹائٹس سی کی قسم یا جینو ٹائپ3ہے۔جس کا علاج نسبتاً آسان ہے اس لیے ہمارے ہاںایلوپیتھک طریقہ علاج میں پیگ انٹرفیرون کی بجائے سادہ انٹرفیرون استعمال کی جاتی ہے۔خدانخواستہ جن لوگوں کے پاس ان جدید ادویات کے استعمال کے وسائل موجود نہ ہوں۔وہ ہیپا ٹائٹس سی کے قدرتی اور گھریلوعلاج کیلئے درج ذیل نسخہ مسلسل کافی عرصہ استعمال کریں۔ انشا اللہ اس موذی مرض کے عواضات سے شفا یا بی ہوگی۔ملٹھی'سونف 'دارچینی ہر ایک تین گرام رات کو آدھے گلاس پانی میں بھگو دیں صبح یہ پانی نتھار لیں اورمولی کا پتوں سمیت پچاس ملی لیٹر رس نیز سادہ گلوکوز پچیس گرام شامل کر کے نہار منہ استعمال کریں ایسی ہی خوراک شام 5بجے لیں۔(ذیابیطس کے مریض گلوکوز کے بغیر استعمال کریں۔)رات سوتے وقت معجون دبیدالورد 'دس گرام عرق کاسنی ایک کپ کے ہمراہ کھائیں۔اس مرض کا طب یونانی (اسلامی) میں شافی علاج موجود ہے تاہم اس کیلئے عطائی حکیموں سے بچنا ضروری ہے اور صرف بااعتماد کوالیفائڈ اطبا سے رجوع ضروری ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دنیا بھر میں کپنگ تھیراپی(حجامہ)سے علاج کا رجحان بڑھ رہا ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

[IMG]
حجامہ (پچھنے لگوانا) سنت رسولۖ اورسرجری کا بہترین متبادل ہے
حجامہ چین کاقومی علاج ہے جبکہ عرب ممالک اورجنوب مشرقی ایشیا میں صدیوں سے رائج ہے

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

دنیا بھر میں قدیم طریقہ علاج کپنگ تھیراپی(حجامہ)کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔حجامہ(پچھنے لگوانا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور سرجری کامتبادل ایک بہترین علاج ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پچھنے لگوائے اور دوسروں کو ترغیب دی اس سلسلے میں بیسیوں مصدقہ احادیث مبارکہ موجود ہیں۔حجامہ گرم اور سرد دونوں علاقوں میں مفید ہے۔ چین کا یہ قومی علاج ہے جبکہ حجامہ عرب ممالک اور جنوب مشرقی ایشیا میں صدیوں سے رائج ہے۔ حجامہ اپنی افادیت کی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(WHO) سے ریکگنائزڈہے امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں کے آلٹرنیٹو میڈیسن کے شعبوں میں حجامہ پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔امریکہ 'فرانس اور برطانیہ میں اس حوالے سے کلینکل ٹرائلز جاری ہیںہالی وڈ کے متعدد اداکار اور اداکارائیں قدیم یونانی طریق علاج کے مطابق جونکوں سے علاج'فصداور حجامہ سے مستفید ہو چکے ہیں۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پاک و ہند میں بھی حجامہ پروموٹ ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں استعمال ہونے والے آلات کی مینوفیکچرنگ کراچی میں شروع ہو چکی ہے۔علاوہ ازیںدنیا بھر میں مستعمل ان آلات کی زیادہ تر مینوفیکچرنگ چائنہ میں ہو رہی ہے حجامہ سینکڑوں امراض میں مفید ثابت ہو رہا ہے حجامہ خون صاف کرتا ہے اور حرام مغز کو فعال بناتا ہے شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے پٹھوں کے اکڑا ؤکو ختم کرنے اور اسٹریس و ٹینشن کیلئے مفید ہے دمہ 'پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کیلئے مفید ہے سردرد دردِ شقیقہ اور دانتوں کے درد کو آرام دیتا ہے آنکھوں کی بیماریوں میں مفید ہے رحم کی بیماریوں اور ماہواری کیلئے مفید ہے گنٹھیا اور عرق النسامیں مفید ہے فشار خون میں آرام پہنچاتا ہے کندھوںسینہ اور پیٹھ کے درد میں مفید ہے کاہلی سستی اور زیادہ نیند آنے کی بیماریوں میں مفید ہے ناسور'کیل مہاسوں اور خارش میں مفید ہے دل کے ضعف اور دردِ گردہ میں مفید ہے مواد بھرے زخموں کیلئے مفید ہے الرجی میں مفید ہے جسم کے کسی حصے میں درد ہو تو اس جگہ لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ حجامہ صحت یاب لوگ بھی کرا سکتے ہیں کیونکہ یہ سنت ہے اور اس میں بیماریوں سے بچاؤ ہے۔ معالجین حجامہ' پچھنا کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد دستانے ریزر بلیڈ اور گلاس کو احتیاط کے ساتھ ضائع کر دیں اور انہیں دوبارہ استعمال مت کریں اور بہتر یہ ہے کہ انہیں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زمین میں دبا دیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>